جہنم میں جانے والا واحد مؤمن — حقیقت، حکمت اور اسلامی رہنمائی

جہنم میں جانے والا واحد مؤمن — حقیقت، حکمت اور اسلامی رہنمائی

جہنم میں جانے والا واحد مؤمن — حقیقت، حکمت اور اسلامی رہنمائی

اسلام انسان کو امید، مغفرت اور اللہ کی بے پایاں رحمت کا پیغام دیتا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں بارہا بیان ہوا ہے کہ مومن خواہ کتنے ہی گناہوں میں مبتلا کیوں نہ ہو، اگر وہ دل سے “لا اِلٰہَ اِلّا اللّٰہ” پر ایمان رکھتا ہے تو آخرکار اللہ کی رحمت اسے جہنم سے نکال لے گی۔

لیکن بعض احادیث میں ایک ایسے گناہگار مؤمن کا ذکر ملتا ہے جو اپنے اعمال کی وجہ سے عارضی طور پر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ یہ مضمون اسی حکمت کو آسان انداز میں بیان کرتا ہے۔

⚫ جہنم میں جانے والا واحد مؤمن — مفہوم کیا ہے؟

علما کے مطابق “واحد مؤمن” سے مراد وہ مومنِ خطاکار ہے جو:

  • ایمان رکھتا ہے

  • مگر اس کے ساتھ بڑے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے

  • توبہ نہیں کرتا

  • اور دنیا سے ایسے ہی چلا جاتا ہے

ایسا مومن ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ عارضی طور پر سزا پاتا ہے، پھر اپنی توحید کی وجہ سے جہنم سے نکال لیا جاتا ہے۔

یہ “واحد مؤمن” کوئی مخصوص شخص نہیں بلکہ ہر وہ گناہگار مسلمان ہو سکتا ہے جو ایمان کے باوجود اعمالِ صالحہ سے محروم رہ جائے۔


⚫ قرآن کا پیغام: اللہ کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“میری رحمت ہر چیز پر غالب ہے”
(سورۃ الاعراف: 156)

اسی لیے ایمان والا انسان ہمیشہ کی جہنم کا مستحق نہیں بنتا۔ اگرچہ اس کے گناہوں کی سزا ہو سکتی ہے مگر آخرکار اللہ کی رحمت اسے پکڑ لیتی ہے۔


⚫ حدیث کا مفہوم: ایمان جہنم سے نکال دیتا ہے

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا، اسے جہنم سے نکال لیا جائے گا۔”

اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہگار ترین مسلمان بھی ہمیشہ کے لیے جہنم میں نہیں رہ سکتا۔


⚫ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ گناہگار مؤمن کے جہنم جانے کی حکمت

1. گناہوں کی صفائی

جہنم کی عارضی سزا اصل میں روح کی پاکیزگی کا عمل ہے۔

2. عدل اور انصاف کا تقاضا

اگر کسی نے اپنی زندگی میں ظلم، ناانصافی یا بڑے گناہ کیے ہوں تو اللہ کا عدل چاہتا ہے کہ اسے اس کا بدلہ ملے۔

3. ایمان کی قدر

آخرکار ایمان اس کے لیے نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔


⚫ سب سے اہم حقیقت: نجات صرف ایمان + نیک عمل سے

“واحد مؤمن جو جہنم میں جائے گا” کا تصور ہمیں واضح پیغام دیتا ہے:

  • صرف زبان کا ایمان کافی نہیں

  • صرف مسلم گھرانے میں پیدا ہونا بھی کافی نہیں

  • نجات کے لیے ایمان + اعمالِ صالحہ دونوں ضروری ہیں


⚫ ہم کیا سیکھیں؟

  1. ایمان کی مضبوطی سب سے بڑی نعمت ہے

  2. گناہوں سے سچی توبہ ضروری ہے

  3. اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے

  4. یہ دنیا ہی اصل اصلاح کا موقع ہے


اختتامی پیغام

اسلام میں جہنم صرف ڈرانے کے لیے نہیں، بلکہ عمل کی اہمیت سمجھانے کے لیے بیان کی جاتی ہے۔
مومن اگر کبھی کمزور پڑ جائے تو اللہ کی رحمت دروازے کھلے رکھتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان ایمان پر قائم رہے اور گناہوں سے توبہ کرتا رہے۔

اللہ ہمیں ایمانِ کامل، نیک اعمال اور اپنی رحمت سے بھری ہوئی معافی عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Comment