موت سے 40 دن پہلے کیا نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں؟ — اسلامی اور روحانی نقطۂ نظر

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:
“ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔”
دنیا بھر کی مختلف روایات اور لوگوں کے تجربات میں موت سے پہلے کچھ روحانی اور اخلاقی تبدیلیوں کا ذکر ملتا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی شرعی یا حتمی نشانیاں نہیں بلکہ عمومی مشاہدات اور سمجھ بوجھ کی باتیں ہیں، جن سے انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی نصیحت حاصل کرتا ہے۔
اسلام موت کے وقت، آخری لمحات اور فرشتوں کے آنے کا ذکر ضرور کرتا ہے، مگر “موت سے 40 دن پہلے” والی مخصوص نشانیاں کسی مستند حدیث یا قرآن میں نہیں ملتیں۔ تاہم بعض بزرگ اور علما نے روحانی حالت میں تبدیلی اور انسان کے رویّوں میں آنے والی چند کیفیتوں کا ذکر کیا ہے۔
یہ تحریر انہی عمومی، اخلاقی اور مشاہداتی باتوں پر مبنی ہے۔
1 — دل کا دنیا سے بےرغبت ہونا
کئی لوگ موت کے قریب آنے پر دنیاوی چیزوں سے دلچسپی کھو دیتے ہیں۔
مثلاً:
-
فضول باتوں سے دل اُچاٹ ہونا
-
دنیاوی خواہشات میں کمی
-
عبادت کی طرف زیادہ میلان
یہ تبدیلی انسان کے اندرونی احوال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
2 — اپنے عمل اور زندگی پر گہری سوچ
بہت سے لوگ اچانک اپنی زندگی، اعمال اور غلطیوں پر غور کرنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے:
-
گناہوں پر پشیمانی
-
معافی کی خواہش
-
پرانے جھگڑوں کو ختم کرنا
-
خاندان سے زیادہ محبت دکھانا
یہ کیفیت روحانی طور پر بہت مثبت ہوتی ہے۔
3 — کمزور ہونا یا طبیعت میں تبدیلی آنا
طبی نقطۂ نظر سے نہیں، بلکہ عمومی مشاہدات کے مطابق:
-
جسم میں بےوجہ تھکاوٹ
-
زیادہ سستی
-
پرانی بیماریوں کا بڑھ جانا
یہ نشانیاں براہ راست موت کی دلیل نہیں ہوتیں، مگر انسانی زندگی کے آخری حصے میں اکثر دیکھی جاتی ہیں۔
4 — خوابوں میں عجیب کیفیتیں
کچھ لوگ خواب میں:
-
مرحوم رشتے داروں کو دیکھتے ہیں
-
سفر یا روشنی جیسی علامتوں کا ذکر کرتے ہیں
-
یا بےچینی والی خوابیں آتی ہیں
اسلامی علما کے مطابق خواب صرف اشارے ہو سکتے ہیں، ان پر یقین کرنا لازم نہیں۔
5 — انسان کے رویّے میں نرمی یا سختی
بعض لوگ اچانک بہت نرم دل ہوجاتے ہیں:
-
معاف کرنا آسان لگتا ہے
-
جھگڑے ختم کرنے لگتے ہیں
-
یا خود تنہائی پسند ہو جاتے ہیں
یہ تبدیلیاں روحانی کیفیت کی جانب اشارہ سمجھ لی جاتی ہیں۔
6 — اہلِ خانہ پر زیادہ توجہ
کچھ لوگ ناگہانی طور پر:
-
پیار کا اظہار بڑھا دیتے ہیں
-
نصیحتیں کرتے ہیں
-
یا اپنے کام سمیٹنے لگتے ہیں
گویا دل میں کوئی انجانا احساس پیدا ہو رہا ہو۔
7 — سچی خواب یا اچانک احساس
بعض اولیاء اور صالحین نے ذکر کیا ہے کہ کبھی کبھی اللہ اپنے بندے کو دل میں ایک نرم سا احساس دیتا ہے کہ زندگی کم رہ گئی ہے۔
یہ ہر کسی کے ساتھ نہیں ہوتا۔
اہم وضاحت — اسلام میں کوئی یقینی “40 دن پہلے” کی نشانی نہیں
اسلام یہ واضح کرتا ہے کہ:
✔ موت کا وقت صرف اللہ جانتا ہے
✔ کوئی انسان یا عالم اس کی پیش گوئی نہیں کرسکتا
✔ مخصوص “40 دن پہلے” کی نشانیاں شرعی طور پر ثابت نہیں
ان عمومی مشاہدات کا مقصد صرف نصیحت اور اصلاح ہے، حتمی علم نہیں۔
ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟
-
زندگی کو بہتر بنائیں
-
گناہوں سے توبہ کرتے رہیں
-
والدین اور رشتے داروں کا حق ادا کریں
-
نماز اور ذکر میں دل لگائیں
-
ہر دن کو آخری سمجھ کر گزاریں
اصل کامیابی اچھی موت نہیں بلکہ اچھی زندگی ہے۔
اختتامی پیغام
موت کی نشانیاں جاننے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو ایمان، نیکی، محبت اور حق کے راستے پر گزاریں۔
اللہ ہمیں خوبصورت انجام، ایمان پر موت، اور اپنی بےپایاں رحمت عطا فرمائے۔
آمین۔