
قطب الدین ایک دفعہ شکار کھیلنے کے لیے کھیت سے گزرا۔ وہاں ایک کسان ہل چلا رہا تھا۔ قطب الدین نے اس سے پوچھا:
“تم دن میں کتنا کام کرتے ہو؟”
کسان نے جواب دیا:
“حضور! چار روپے کماتا ہوں۔”
قطب الدین نے پوچھا:
“تم ان چار روپوں کو کس طرح خرچ کرتے ہو؟”
کسان نے کہا:
“حضور! میں ان میں سے ایک روپے خرچ کر دیتا ہوں کھانے پینے میں، ایک روپے بیٹے کی تعلیم میں، اور دو روپے اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتا ہوں۔”
قطب الدین یہ سن کر بہت خوش ہوا اور کہا:
“بیٹا، یہی اصل دولت ہے۔ زیادہ دولت کی خواہش کرنے کی ضرورت نہیں، جو اللہ کے راستے میں خرچ ہو اور زندگی کے ضروری کاموں پر خرچ ہو، وہ سب سے بڑی دولت ہے۔”
قطب الدین نے اس کے بعد کسان کی سچائی اور امانت داری کی تعریف کی اور کہا کہ دنیاوی دولت سے زیادہ اہم دل کی پاکیزگی اور اللہ کی رضا ہے۔